وَ مَنْ يَّقْنُتْ (22)

سورۃ سبا (34)

(11-20)

اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّ قَدِّرْ فِي السَّرْدِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّيْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِيْرٌ 34|11

اور ان سے کہا کہ کشادہ زرہیں بناؤ اور کڑیوں کے جوڑنے میں مناسب اندازہ رکھو اور (اے آلِ داؤد(ع)) تم سب نیک عمل کرو (کیونکہ) تم لوگ جو کچھ کرتے ہو میں خوب دیکھ رہا ہوں۔

وَ لِسُلَيْمٰنَ الرِّيْحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَّ رَوَاحُهَا شَهْرٌ١ۚ وَ اَسَلْنَا لَهٗ عَيْنَ الْقِطْرِ١ؕ وَ مِنَ الْجِنِّ مَنْ يَّعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ؕ وَ مَنْ يَّزِغْ مِنْهُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِيْرِ 34|12

اور ہم نے سلیمان(ع) کیلئے ہوا کو مسخر کر دیا جس کا صبح کا سفر ایک مہینہ کی راہ تک تھا اور شام کا ایک مہینہ کی راہ تک اور ہم نے ان کیلئے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ جاری کیا اور جنات میں سے کچھ ایسے تھے جو ان (سلیمان(ع)) کے پروردگار کے حکم سے ان کے سامنے کام کرتے تھے اور ان (جنوں) میں سے جو ہمارے حکم سے سرتابی کرتا تھا ہم اسے بھڑکتی ہوئی آگ کا مزہ چکھاتے تھے۔

يَعْمَلُوْنَ لَهٗ مَا يَشَآءُ مِنْ مَّحَارِيْبَ وَ تَمَاثِيْلَ وَ جِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَ قُدُوْرٍ رّٰسِيٰتٍ١ؕ اِعْمَلُوْۤا اٰلَ دَاوٗدَ شُكْرًا١ؕ وَ قَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُوْرُ 34|13

وہ ان کیلئے وہ کچھ کرتے تھے جو وہ چاہتے تھے (جیسے) محرابیں (مقدس اونچی عمارتیں) اور مجسمے اور بڑے بڑے پیالے جیسے حوض اور گڑی ہوئی دیگیں۔ اے داؤد(ع) کے خاندان والو! (میرا) شکر ادا کرو اور میرے بندوں میں شکر گزار بہت ہی کم ہیں۔

فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلٰى مَوْتِهٖۤ اِلَّا دَآبَّةُ الْاَرْضِ تَاْكُلُ مِنْسَاَتَهٗ١ۚ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوْا فِي الْعَذَابِ الْمُهِيْنِؕ 34|14

اور جب ہم نے سلیمان(ع) پر موت کا فیصلہ نافذ کیا (اور وہ فوت ہوگئے) تو ان کی موت کا پتہ ان (جنات) کو نہیں دیا مگر اس دیمک نے جو ان کے عصا کو کھا رہی تھی تو جب (عصا کھوکھلا ہوگیا اور) آپ زمین پر گرے تو جنات پر اصلی حالت کھل گئی کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو (اتنے عرصے تک) اس رسوا کن عذاب میں مبتلا نہ رہتے۔

لَقَدْ كَانَ لِسَبَاٍ فِيْ مَسْكَنِهِمْ اٰيَةٌ١ۚ جَنَّتٰنِ عَنْ يَّمِيْنٍ وَّ شِمَالٍ١ؕ۬ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّكُمْ وَ اشْكُرُوْا لَهٗ١ؕ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَّ رَبٌّ غَفُوْرٌ 34|15

قبیلہ سباء والوں کیلئے ان کی آبادی میں (قدرتِ خدا کی) ایک نشانی موجود تھی (یعنی) دو باغ تھے دائیں اور بائیں (اور ان سے کہہ دیا گیا) کہ اپنے پروردگار کے رزق سے کھاؤ اور اس کا شکر ادا کرو شہر ہے پاک و پاکیزہ اور پروردگار ہے بخشنے والا۔

فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ سَيْلَ الْعَرِمِ وَ بَدَّلْنٰهُمْ بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ ذَوَاتَيْ اُكُلٍ خَمْطٍ وَّ اَثْلٍ وَّ شَيْءٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِيْلٍ 34|16

پس انہوں نے روگردانی کی تو ہم نے ان پر بند توڑ سیلاب چھوڑ دیا اور ان کے ان دو باغوں کو ایسے دو باغوں سے بدل دیا جن کے پھل بدمزہ تھے اور جھاؤ کے کچھ درخت اور کچھ تھوڑی سی بیریاں۔

ذٰلِكَ جَزَيْنٰهُمْ بِمَا كَفَرُوْا١ؕ وَ هَلْ نُجٰزِيْۤ اِلَّا الْكَفُوْرَ 34|17

یہ ہم نے انہیں ان کے ناشکراپن کی پاداش میں سزا دی اور کیا ہم ایسی سزا ناشکرے انسان کے سوا کسی اور کو دیتے ہیں؟

وَ جَعَلْنَا بَيْنَهُمْ وَ بَيْنَ الْقُرَى الَّتِيْ بٰرَكْنَا فِيْهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَّ قَدَّرْنَا فِيْهَا السَّيْرَ١ؕ سِيْرُوْا فِيْهَا لَيَالِيَ وَ اَيَّامًا اٰمِنِيْنَ 34|18

اور ہم نے ان کے اور ان کی بستیوں کے درمیان جن کو ہم نے برکت دی تھی (سرِ راہ) کئی اور نمایاں بستیاں بسا دیں اور ہم نے ان میں سفر کی منزلیں ایک اندازے پر مقرر کر دیں کہ (جب چاہو) راتوں میں، دنوں میں امن و عافیت سے چلو پھرو۔

فَقَالُوْا رَبَّنَا بٰعِدْ بَيْنَ اَسْفَارِنَا وَ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنٰهُمْ اَحَادِيْثَ وَ مَزَّقْنٰهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ 34|19

مگر) انہوں نے کہا اے ہمارے پروردگار ہمارے سفروں (ان کی مسافتوں) کو دور دراز کر دے اور (یہ کہہ کر) انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا سو ہم نے انہیں (برباد) کرکے افسانہ بنا دیا اور بالکل ٹکڑے ٹکڑے کر دیا بے شک اس میں نشانیاں ہیں ہر بہت صبر کرنے (اور) بہت شکر کرنے والے کیلئے۔

وَ لَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ اِبْلِيْسُ ظَنَّهٗ فَاتَّبَعُوْهُ اِلَّا فَرِيْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِيْنَ 34|20

بیشک شیطان نے ان لوگوں کے بارے میں اپنا خیال سچا کر دکھایا چنانچہ انہوں نے اس کی پیروی کی۔ سوائے اہلِ ایمان کے ایک گروہ کے۔