لَنْ تَنَالُوا (4)

سورہ آلِ عمران (3)

(181-190)

لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِيْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِيْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِيَآءُ١ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوْا وَ قَتْلَهُمُ الْاَنْۢبِيَآءَ بِغَيْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ نَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ (3|181)

بے شک اللہ نے ان لوگوں (یہودیوں) کا قول سن لیا ہے جنہوں نے کہا کہ خدا مفلس ہے اور ہم مالدار ہیں سو ان کی یہ باتیں ہم لکھ لیں گے نیز ان کا نبیوں کو ناحق قتل کرنا بھی لکھ لیں گے۔ اور (فیصلے کے وقت) ہم ان سے کہیں گے کہ اب آتش دوزخ کا مزہ چکھو۔

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَيْدِيْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَيْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ (3|182)

یہ بدلہ ہے اس کا جو تمہارے ہاتھوں نے (زاد سفر کے طور پر) آگے بھیجا ہے اور یقینا اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔

اَلَّذِيْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَيْنَاۤ اَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّٰى يَاْتِيَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْكُلُهُ النَّارُ١ؕ قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِيْ بِالْبَيِّنٰتِ وَ بِالَّذِيْ قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْهُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ (3|183)

یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ نے ہم سے عہد و اقرار لیا ہے کہ ہم اس وقت تک کسی رسول پر ایمان نہ لائیں۔ جب تک وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی پیش نہ کرے جسے (غیبی) آگ آکر کھا لے۔ ان سے کہیئے۔ مجھ سے پہلے تمہارے پاس بہت سے رسول(ص) روشن نشانیاں (معجزے) لے کر اور وہ (نشانی) بھی جو تم کہتے ہو لے کر آئے۔ تو اگر تم (اس شرط میں) سچے ہو تو تم نے ان کو کیوں قتل کیا تھا؟ ۔

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ جَآءُوْ بِالْبَيِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ وَ الْكِتٰبِ الْمُنِيْرِ (3|184)

اے رسول) اگر یہ آپ کو جھٹلاتے ہیں تو (آزردہ خاطر نہ ہوں) آپ سے پہلے بہت سے رسول(ص) جھٹلائے جا چکے ہیں جو معجزات، صحیفے اور روشن کتاب (آئین حیات) لے کر آئے تھے۔

كُلُّ نَفْسٍ ذَآىِٕقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ١ؕ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ١ؕ وَ مَا الْحَيٰوةُ الدُّنْيَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ (3|185)

ہر جاندار نے (انجام کار) موت کا مزہ چکھنا ہے۔ اور تم سب کو قیامت کے دن تمہیں (اپنے اعمال کا) پورا پورا بدلہ دیا جائے گا پس جو شخص (اس دن) جہنم سے بچا لیا گیا۔ اور جنت میں داخل کیا گیا وہ کامیاب ہوگیا۔ اور دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا سامان اور سرمایہ فریب ہے۔

لَتُبْلَوُنَّ فِيْۤ اَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١۫ وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْۤا اَذًى كَثِيْرًا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ (3|186)

مسلمانو) ضرور تمہیں تمہارے مالوں اور جانوں کے بارے میں آزمایا جائے گا اور تمہیں اہل کتاب مشرکین سے بڑي دل آزار باتیں سننا پڑیں گی۔ اور اگر تم صبر و ضبظ سے کام لو اور تقویٰ اختیار کرو۔ تو بے شک یہ بڑی ہمت اور حوصلے کا کام ہے۔

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَيِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَكْتُمُوْنَهٗ فَنَبَذُوْهُ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ وَ اشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِيْلًا١ؕ فَبِئْسَ مَا يَشْتَرُوْنَ (3|187)

اے رسول(ص)) وہ وقت یاد کرو۔ جب خدا نے اہل کتاب سے عہد و پیمان لیا تھا کہ تم اسے ضرور لوگوں کے سامنے کھول کر بیان کروگے۔ اور اسے ہرگز نہیں چھپاؤگے مگر انہوں نے اسے اپنے پس پشت ڈال دیا۔ اور اس کے عوض تھوڑی سی قیمت وصول کرلی۔ کتنا برا کاروبار ہے جو یہ کر رہے ہیں۔

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اَتَوْا وَّ يُحِبُّوْنَ اَنْ يُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ (3|188)

آپ ان لوگوں کے بارے میں خیال کریں جو اپنی کارستانیوں پر اتراتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو کام انہوں نے نہیں کیا اس پر بھی ان کی تعریف و ستائش کی جائے۔ ان کے بارے میں خیال نہ کرنا کہ وہ عذاب سے محفوظ ہیں (نہیں بلکہ) ان کے لیے دردناک عذاب (تیار) ہے۔

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ (3|189)

اللہ کے لیے ہی ہے آسمانوں اور زمین کی حکومت (اور وہی ان کا مالک ہے) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّيْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ (3|190)

بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات دن کی ادل بدل میں صاحبانِ عقل کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔