لَنْ تَنَالُوا (4)

سورہ آلِ عمران (3)

(111-120)

لَنْ يَّضُرُّوْكُمْ اِلَّاۤ اَذًى ١ؕ وَ اِنْ يُّقَاتِلُوْكُمْ يُوَلُّوْكُمُ الْاَدْبَارَ١۫ ثُمَّ لَا يُنْصَرُوْنَ (3|111)

یہ معمولی اذیت کے سوا ہرگز تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اور اگر یہ تم سے جنگ کریں گے تو تمہیں پیٹھ دکھائیں گے پھر ان کی (کہیں سے) مدد نہ کی جائے گی۔

ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ اَيْنَ مَا ثُقِفُوْۤا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ حَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الْمَسْكَنَةُ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ وَ يَقْتُلُوْنَ الْاَنْۢبِيَآءَ بِغَيْرِ حَقٍّ١ؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا يَعْتَدُوْنَ (3|112)

یہ جہاں بھی پائے جائیں ان پر ذلت کی مار پڑ گئی مگر یہ کہ خدا کے کسی عہد پر یا انسانوں کے کسی معاہدہ کے سہارے کچھ پناہ مل جائے۔ اور یہ خدا کے قہر و غضب میں گھر گئے ہیں اور ان پر محتاجی کی مار پڑی یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ وہ آیاتِ الٰہی کے ساتھ کفر کرتے رہے اور ناحق نبیوں کو قتل کرتے رہے نیز اس لئے کہ (خدا کی) نافرمانی اور زیادتیاں کیا کرتے تھے۔

لَيْسُوْا سَوَآءً١ؕ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اُمَّةٌ قَآىِٕمَةٌ يَّتْلُوْنَ اٰيٰتِ اللّٰهِ اٰنَآءَ الَّيْلِ وَ هُمْ يَسْجُدُوْنَ (3|113)

یہ لوگ سب برابر نہیں ہیں۔ اہل کتاب میں ایسی ثابت قدم جماعت بھی ہے جو رات کے مختلف اوقات میں آیاتِ الٰہی کی تلاوت کرتی ہے۔ اور سجدہ ریز ہوتی ہے۔

يُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَ يَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ يَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ يُسَارِعُوْنَ فِي الْخَيْرٰتِ١ؕ وَ اُولٰٓىِٕكَ مِنَ الصّٰلِحِيْنَ (3|114)

اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں اور بھلائی کے کاموں میں تیزی کرتے ہیں اور یہ لوگ نیک لوگوں میں سے ہیں۔

وَ مَا يَفْعَلُوْا مِنْ خَيْرٍ فَلَنْ يُّكْفَرُوْهُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِالْمُتَّقِيْنَ (3|115)

یہ جو نیکی بھی کریں گے اس کی ہرگز ناقدری نہیں کی جائے گی۔ اور خدا پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے۔

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَيْـًٔا١ؕ وَ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ (3|116)

بے شک جن لوگوں نے کفر اختیار کیا انہیں ان کے اموال اور اولاد اللہ (کی گرفت) سے کچھ بھی نہیں بچا سکیں گے۔ وہ تو دوزخی ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔

مَثَلُ مَا يُنْفِقُوْنَ فِيْ هٰذِهِ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا كَمَثَلِ رِيْحٍ فِيْهَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَاَهْلَكَتْهُ١ؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰكِنْ اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ(3|117)

یہ لوگ جو کچھ اس دنیوی زندگی میں خرچ کرتے ہیں اس کی مثال اس ہوا کی سی ہے جس میں سخت سردی ہو اور وہ ایسے لوگوں کی کھیتی پر چلے جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے۔ اور اسے تباہ و برباد کرکے رکھ دے۔ اللہ نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا۔ بلکہ وہ خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ لَا يَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًا١ؕ وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْ١ۚ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ١ۖۚ وَ مَا تُخْفِيْ صُدُوْرُهُمْ اَكْبَرُ١ؕ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْاٰيٰتِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ (3|118)

اے ایمان والو! اپنے (لوگوں کے) سوا دوسرے ایسے لوگوں کو اپنا جگری دوست (رازدار) نہ بناؤ جو تمہیں نقصان پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ جو چیز تمہیں مصیبت و زحمت میں مبتلا کرے وہ اسے محبوب رکھتے ہیں بغض و عناد ان کے مونہوں سے ٹپکتا ہے۔ اور جو کچھ ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ ہم نے تمہارے لئے نشانیاں کھول کر بیان کر دی ہیں اگر تم عقل سے کام لو۔

هٰۤاَنْتُمْ اُولَآءِ تُحِبُّوْنَهُمْ وَ لَا يُحِبُّوْنَكُمْ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِالْكِتٰبِ كُلِّهٖ١ۚ وَ اِذَا لَقُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا١ۖۗۚ وَ اِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَيْكُمُ الْاَنَامِلَ مِنَ الْغَيْظِ١ؕ قُلْ مُوْتُوْا بِغَيْظِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ (3|119)

تم ایسے (سیدھے) ہو کہ تم ان سے محبت کرتے ہو مگر وہ تم سے محبت نہیں کرتے۔ حالانکہ تم (آسمانی) کتاب پر ایمان رکھتے ہو۔ (ان کی حالت یہ ہے کہ) جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔ اور جب اکیلے ہوتے ہیں تو تمہارے خلاف غیظ و غضب سے اپنی انگلیاں چبانے لگتے ہیں۔ ان سے کہہ دو کہ اپنے غم و غصہ سے مر جاؤ۔ بے شک اللہ سینے کے اندر والی باتوں کو خوب جانتا ہے۔

اِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١ وَ اِنْ تُصِبْكُمْ سَيِّئَةٌ يَّفْرَحُوْا بِهَا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا لَا يَضُرُّكُمْ كَيْدُهُمْ شَيْـًٔا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا يَعْمَلُوْنَ مُحِيْطٌ (3|120)

جب تمہیں کوئی بھلائی چھو بھی جائے تو ان کو برا لگتا ہے اور اگر تمہیں کوئی برائی پہنچے تو وہ اس سے خوش ہوتے ہیں اور اگر تم صبر سے کام کرو۔ اور پرہیزگاری اختیار کرو تو ان کی ترکیبیں اور چالیں تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچائیں گی۔ بے شک جو کچھ یہ لوگ کر رہے ہیں خدا اس کا علمی احاطہ کئے ہوئے ہے۔