وَ لَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ۚ فَاَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ 29|61
اور اگر آپ ان (مشرکوں) سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا ہے؟ اور سورج اور چاند کو کس نے مسخر کیا ہے؟ تو وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے۔ تو پھر وہ کدھر جا رہے ہیں؟
اَللّٰهُ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ وَ يَقْدِرُ لَهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ 29|62
اللہ ہی اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے روزی کشادہ کر دیتا ہے اور جس کی چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔ بے شک اللہ ہر چیز کا بڑا جاننے والا ہے۔
وَ لَىِٕنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ نَّزَّلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْيَا بِهِ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ مَوْتِهَا لَيَقُوْلُنَّ اللّٰهُ١ؕ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ 29|63
اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ آسمان سے پانی کس نے نازل کیا؟ اور زمین کو مردہ ہونے (بنجر ہونے) کے بعد کس نے زندہ (آباد) کیا؟ تو وہ ضرور کہیں گے اللہ نے! آپ کہیے! الحمد ﷲ۔ لیکن اکثر لوگ عقل سے کام نہیں لیتے۔
وَ مَا هٰذِهِ الْحَيٰوةُ الدُّنْيَاۤ اِلَّا لَهْوٌ وَّ لَعِبٌ١ؕ وَ اِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ لَهِيَ الْحَيَوَانُ١ۘ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ 29|64
اور یہ دنیاوی زندگی تو محض کھیل تماشہ ہے اور حقیقی زندگی تو آخرت والی ہے۔ کاش لوگوں کو اس (حقیقت) کا علم ہوتا۔
فَاِذَا رَكِبُوْا فِي الْفُلْكِ دَعَوُا اللّٰهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ١ۚ۬ فَلَمَّا نَجّٰىهُمْ اِلَى الْبَرِّ اِذَا هُمْ يُشْرِكُوْنَۙ 29|65
پس جب یہ لوگ کشتی میں سوار ہوتے ہیں تو اپنے دین (و اعتقاد) کو اللہ کیلئے خالص کرکے اس سے دعا مانگتے ہیں پھر جب انہیں نجات دے کر خشکی کی طرف لے آتا ہے تو ایک دم وہ شرک کرنے لگتے ہیں۔
لِيَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَيْنٰهُمْ١ۙۚ وَ لِيَتَمَتَّعُوْا فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَ 29|66
تاکہ جو نعمت ہم نے انہیں عطا کی ہے وہ اس کا کفران کریں اور تاکہ وہ لطف اٹھا لیں سو انہیں (اس کا انجام) عنقریب معلوم ہو جائے گا۔
اَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّ يُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ يُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَةِ اللّٰهِ يَكْفُرُوْن 29|67
کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے کہ ہم نے (ان کے شہر کو) امن والا حرم بنا دیا ہے۔ حالانکہ ان کے گرد و پیش کے لوگوں کو اچک لیا جاتا ہے (پھر بھی) یہ لوگ باطل پر ایمان لاتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا کفران (ناشکری) کرتے ہیں۔
وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهٗ١ؕ اَلَيْسَ فِيْ جَهَنَّمَ مَثْوًى لِّلْكٰفِرِيْنَ 29|68
اس شخص سے بڑا ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹا بہتان باندھے یا حق کو جھٹلائے جبکہ وہ اس کے پاس آچکا ہے! کیا کافروں کا ٹھکانا جہنم نہیں ہے؟
وَ الَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِيْنَ 29|69
اور جو لوگ ہماری خاطر جدوجہد کرتے ہیں ہم ان کو ضرور اپنے راستے دکھا دیتے ہیں اور بے شک اللہ محسنین کے ساتھ ہے۔