اَمَّنْ خَلَقَ (20)

سورۃ القصص(28)

(51-60)

وَ لَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُوْنَؕ 28|51

اور ہم نے ان کیلئے کلام (ہدایت نظام) کا تسلسل جاری رکھا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔

اَلَّذِيْنَ اٰتَيْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ يُؤْمِنُوْنَ 28|52

جن کو ہم نے اس (نزولِ قرآن) سے پہلے کتاب عطا کی وہ اس پر ایمان لاتے ہیں۔

وَ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِيْنَ 28|53

اور جب یہ (قرآن) ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے بےشک یہ ہمارے پروردگار کی طرف سے حق ہے اور ہم تو اس سے پہلے ہی مسلم (اسے ماننے والے) ہیں۔

اُولٰٓىِٕكَ يُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَيْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَ يَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّيِّئَةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ يُنْفِقُوْنَ 28|54

یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کے صبر و ثبات کی وجہ سے دوہرا اجر عطا کیا جائے گا اور وہ برائی کا دفعیہ بھلائی سے کرتے ہیں اور ہم نے انہیں جو رزق دے رکھا ہے وہ اس میں سے (راہِ خدا میں) خرچ کرتے ہیں۔

وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ١ لَا نَبْتَغِي الْجٰهِلِيْنَ 28|55

اور وہ جب کوئی فضول بات سنتے ہیں تو اس سے روگردانی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے! تم کو سلام! ہم جاہلوں کو پسند نہیں کرتے۔

اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِيْنَ 28|56

اے رسول(ص)) آپ جسے چاہیں اسے ہدایت نہیں کر سکتے لیکن اللہ جسے چاہتا ہے اسے ہدایت دے دیتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو بہتر جانتا ہے۔

وَ قَالُوْۤا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا١ؕ اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا يُّجْبٰۤى اِلَيْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَيْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ 28|57

اور وہ (کفارِ مکہ) کہتے ہیں کہ اگر ہم آپ کے ساتھ ہدایت کی پیروی کریں تو ہمیں اپنی سر زمین سے اچک لیا جائے گا (یہاں سے نکال دیا جائے گا) کیا ہم نے ان کو ایسے امن والے محترم مقام میں جگہ نہیں دی؟ جہاں ہماری طرف سے رزق کے طور پر ہر قسم کے پھل لائے جاتے ہیں مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْيَةٍۭ بَطِرَتْ مَعِيْشَتَهَا١ۚ فَتِلْكَ مَسٰكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِيْلًا١ؕ وَ كُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِيْنَ 28|58

اور ہم نے کتنی ہی ایسی بستیاں ہلاک کر دیں جو اپنی معیشت (خوشحالی) پر اترا گئی تھیں (دیکھو) یہ ان کے مکانات ہیں جو (اجڑے) پڑے ہیں جو ان کے بعد کم ہی آباد ہوئے ہیں آخرکار ہم ہی وارث ہیں۔

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى حَتّٰى يَبْعَثَ فِيْۤ اُمِّهَا رَسُوْلًا يَّتْلُوْا عَلَيْهِمْ اٰيٰتِنَا١ۚ وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِي الْقُرٰۤى اِلَّا وَ اَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ 28|59

اور آپ کا پروردگار بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہیں ہے جب تک ان کے مرکزی مقام میں کوئی رسول نہ بھیج دے جو ہماری آیتوں کی تلاوت کرے اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہیں ہیں جب تک ان کے باشندے ظالم نہ ہوں۔

وَ مَاۤ اُوْتِيْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَمَتَاعُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ زِيْنَتُهَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَيْرٌ وَّ اَبْقٰى ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ 28|60

اور تمہیں جو کچھ بھی دیا گیا ہے یہ محض زندگانی دنیا کا سرمایہ ہے اور اسی کی زیب و زینت اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ بہتر ہے اور زیادہ پائیدار بھی تم عقل سے کیوں کام نہیں لیتے۔