اَمَّنْ خَلَقَ (20)

سورۃ النمل (27)

(81-93)

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِي الْعُمْيِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ يُّؤْمِنُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ 27|81

اور نہ ہی آپ (دل کے) اندھوں کو ان کی گمراہی سے (ہٹا کر) راستہ دکھا سکتے ہیں۔ آپ تو صرف انہی لوگوں کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں۔ بس یہی لوگ ماننے والے ہیں۔

وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ١ۙ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰيٰتِنَا لَا يُوْقِنُوْنَ 27|82

اور جب ان لوگوں پر وعدہ پورا ہونے کو ہوگا تو ہم زمین سے چلنے پھرنے والا نکالیں گے جو ان سے کلام کرے گا۔ (اس بناء پر) کہ لوگ ہماری آیتوں پر یقین نہیں کرتے تھے۔

وَ يَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّنْ يُّكَذِّبُ بِاٰيٰتِنَا فَهُمْ يُوْزَعُوْنَ 27|83

اور (اس دن کو یاد کرو) جس دن ہم ہر امت میں سے ایک ایسا گروہ محشور (جمع) کریں گے جو ہماری آیتوں کو جھٹلایا کرتا تھا۔ پھر اس کو روک کر جماعت بندی کی جائے گی۔

حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْ قَالَ اَكَذَّبْتُمْ بِاٰيٰتِيْ وَ لَمْ تُحِيْطُوْا بِهَا عِلْمًا اَمَّا ذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 27|84

یہاں تک کہ جب وہ (سب) آجائیں گے تو اللہ ان سے فرمائے گا کیا تم نے میری آیتوں کو اس حالت میں جھٹلایا تھا کہ تم نے ان کا علمی احاطہ بھی نہ کیا تھا؟ یا وہ کیا تھا جو تم کیا کرتے تھے؟

وَ وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَهُمْ لَا يَنْطِقُوْنَ 27|85

اور ان لوگوں کے ظلم کی وجہ سے ان پر (وعدۂ عذاب کی) بات پوری ہو جائے گی تو اب وہ نہیں بولیں گے۔

اَلَمْ يَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّيْلَ لِيَسْكُنُوْا فِيْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يُّؤْمِنُوْنَ 27|86

کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے رات (تاریک) اس لئے بنائی کہ وہ اس میں آرام کریں اور دن کو روشن اس لئے بنایا (تاکہ اس میں کام کریں) بےشک اس میں ایمان لانے والوں کیلئے (قدرت خدا کی) نشانیاں ہیں۔

وَ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِي الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِيْنَ 27|87

اور جس دن صور پھونکا جائے گا۔ تو جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں سب گھبرا جائیں گے سوائے ان کے جن کو خدا (بچانا) چاہے گا اور سب ذلت وعاجزی کے ساتھ اس کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے۔

وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِيَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ١ؕ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِيْۤ اَتْقَنَ كُلَّ شَيْءٍ١ؕ اِنَّهٗ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَفْعَلُوْنَ 27|88

اس وقت) تم پہاڑوں کو دیکھوگے تو خیال کروگے کہ وہ ساکن و برقرار ہیں حالانکہ وہ بادلوں کی مانند رواں دواں ہوں گے۔ یہ خدا کی کاریگری ہے جس نے ہر شئے کو محکم و پائیدار بنایا ہے۔ بیشک وہ خوب جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَيْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ هُمْ مِّنْ فَزَعٍ يَّوْمَىِٕذٍ اٰمِنُوْنَ 27|89

جو شخص نیکی لے کر آئے گا اسے اس سے بہتر ملے گا اور اس دن کی گھبراہٹ سے محفوظ ہوں گے۔

وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّيِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِي النَّارِ١ؕ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 27|90

اور جو شخص برائی لے کر آئے گا تو ان کو اوندھے منہ آتش (دوزخ) میں پھینک دیا جائے گا۔ کیا تمہیں تمہارے عمل کے علاوہ کوئی بدلہ مل سکتا ہے؟ (جیسا کروگے ویسا بھروگے)۔

اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِيْ حَرَّمَهَا وَ لَهٗ كُلُّ شَيْءٍ وَّ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَۙ 27|91

اے رسول کہو) مجھے تو بس یہی حکم ملا ہے کہ میں اس شہر کے مالک کی عبادت کروں جس نے اسے محترم بنایا ہے اور ہر شے اسی کی ملکیت ہے اور مجھے تو یہ حکم ملا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے رہوں۔۔

وَ اَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا يَهْتَدِيْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِيْنَ 27|92

اور یہ کہ قرآن پڑھ کر سناؤں سو اب جو ہدایت اختیار کرے گا وہ اپنے لئے ہدایت اختیار کرے گا۔ اور جو کوئی گمراہی اختیار کرے گا تو آپ کہہ دیجئے! کہ میں تو صرف ڈرانے والوں میں سے ہوں۔

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ سَيُرِيْكُمْ اٰيٰتِهٖ فَتَعْرِفُوْنَهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ 27|93

اور آپ کہہ دیجئے! کہ سب تعریف اللہ کیلئے ہے وہ عنقریب تمہیں اپنی نشانیاں دکھائے گا اور تم انہیں پہچان لوگے اور تمہارا پروردگار اس سے غافل نہیں ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔