وَ قَالَ الَّذِيْنَ (19)

سورۃ النمل (27)

(31-40)

اَلَّا تَعْلُوْا عَلَيَّ وَ اْتُوْنِيْ مُسْلِمِيْنَ 27|31

تم میرے مقابلہ میں سرکشی نہ کرو اور فرمانبردار ہوکر میرے پاس آجاؤ۔

قَالَتْ يٰۤاَيُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِيْ فِيْۤ اَمْرِيْ١ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ 27|32

چنانچہ ملکہ نے کہا: اے سردارانِ قوم! تم مجھے میرے اس معاملہ میں رائے دو (کیونکہ) میں کبھی کسی معاملہ کا کوئی قطعی فیصلہ نہیں کرتی جب تک تم لوگ میرے پاس موجود نہ ہو۔

قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّ اُولُوْا بَاْسٍ شَدِيْدٍ١ۙ۬ وَّ الْاَمْرُ اِلَيْكِ فَانْظُرِيْ مَا ذَا تَاْمُرِيْنَ 27|33

انہوں نے کہا ہم طاقتور اور سخت لڑنے والے ہیں لیکن اختیار آپ کو ہی ہے۔ آپ دیکھ لیں (غور کریں) کہ کیا حکم دیتی ہیں؟

قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْيَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً١ۚ وَ كَذٰلِكَ يَفْعَلُوْنَ 27|34

ملکہ نے کہا بادشاہ جب کسی بستی میں داخل ہوتے ہیں تو اسے تباہ کر دیتے ہیں اور اس کے معزز باشندوں کو ذلیل کر دیتے ہیں اور ایسا ہی (یہ لوگ) کریں گے۔

وَ اِنِّيْ مُرْسِلَةٌ اِلَيْهِمْ بِهَدِيَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ يَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ 27|35

لہٰذا جنگ مناسب نہیں البتہ) میں ان کے پاس ایک ہدیہ بھیجتی ہوں۔ اور پھر دیکھتی ہوں کہ میرے فرستادے (قاصد) کیا جواب لاتے ہیں؟

فَلَمَّا جَآءَ سُلَيْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ فَمَاۤ اٰتٰىنِۧ اللّٰهُ خَيْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىكُمْ١ۚ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِيَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ 27|36

سو جب وہ فرستادہ (یا ملکہ کا سفیر) سلیمان کے پاس پہنچا تو آپ نے کہا کیا تم لوگ مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو؟ تو اللہ نے مجھے جو کچھ دے رکھا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تمہیں دیا ہے البتہ تم ہی اپنے ہدیہ پر خوش ہو سکتے ہو۔

اِرْجِعْ اِلَيْهِمْ فَلَنَاْتِيَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَ لَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ 27|37

اے سفیر) تو ان لوگوں کے پاس واپس لوٹ جا (اور ان کو بتا کہ) ہم ان کے پاس ایسے لشکر لے کر آرہے ہیں جن کے مقابلہ کی ان میں تاب نہ ہوگی اور ہم ان کو وہاں سے اس طرح ذلیل کرکے نکالیں گے کہ وہ خوار ہو چکے ہوں گے۔

قَالَ يٰۤاَيُّهَا الْمَلَؤُا اَيُّكُمْ يَاْتِيْنِيْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ يَّاْتُوْنِيْ مُسْلِمِيْنَ 27|38

آپ نے کہا اے عمائدین سلطنت! تم میں سے کون ہے؟ جو اس (ملکہ سبا) کا تخت میرے پاس لائے قبل اس کے کہ وہ مسلمان ہوکر میرے پاس آئیں؟

قَالَ عِفْرِيْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِيْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ١ۚ وَ اِنِّيْ عَلَيْهِ لَقَوِيٌّ اَمِيْنٌ 27|39

جنات میں سے ایک شریر و چالاک جن نے کہا کہ میں اسے آپ کے پاس لے آؤں گا اس سے پہلے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں۔ بےشک میں اس کی طاقت رکھتا ہوں (اور میں) امانت دار بھی ہوں۔

قَالَ الَّذِيْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِيْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ يَّرْتَدَّ اِلَيْكَ طَرْفُكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّيْ١ۖ۫ لِيَبْلُوَنِيْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ١ؕ وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيْ غَنِيٌّ كَرِيْمٌ 27|40

اور اس شخص نے کہا جس کے پاس کتاب کا کچھ علم تھا میں اسے آپ کے پاس لے آؤں گا اس سے پہلے کہ آپ کی آنکھ جھپکے پھر جب سلیمان نے اسے اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو کہا کہ یہ میرے پروردگار کا فضل و کرم ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں اس کا شکر ادا کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں اور جو کوئی شکر کرتا ہے تو وہ اپنے فائدہ کیلئے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو وہ (اپنا نقصان کرتا ہے) میرا پروردگار بے نیاز اور کریم ہے۔