وَ قَالَ الَّذِيْنَ (19)

سورۃ الشعراء (26)

(31-40)

قَالَ فَاْتِ بِهٖۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ 26|31

فرعون نے کہا: اچھا تو لے آ۔ اگر تو سچا ہے۔

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ مُّبِيْنٌۚۖ 26|32

اس پر موسیٰ نے اپنا عصا پھینک دیا تو ایک دم وہ کھلا ہوا اژدھا بن گیا۔

وَّ نَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا هِيَ بَيْضَآءُ لِلنّٰظِرِيْنَ 26|33

اس نے اپنا ہاتھ نکالا تو وہ ایک دم دیکھنے والوں کیلئے چمک رہا تھا۔

قَالَ لِلْمَلَاِ حَوْلَهٗۤ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِيْمٌۙ 26|34

فرعون نے اپنے اردگرد کے عمائدین سے کہا کہ یہ تو بڑا ماہر جادوگر ہے۔

يُّرِيْدُ اَنْ يُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهٖ١ۖۗ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ 26|35

یہ اپنے جادو (کے زور) سے تمہیں اپنے ملک سے باہر نکالنا چاہتا ہے۔ اب تم کیا رائے دیتے ہو؟

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ ابْعَثْ فِي الْمَدَآىِٕنِ حٰشِرِيْنَۙ 26|36

انہوں نے کہا اسے اور اس کے بھائی کو روک لیجئے اور تمام شہروں میں جمع کرنے والے آدمی (ہرکارے) بھیجئے۔

يَاْتُوْكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيْمٍ 26|37

جو ہر بڑے جادوگر کو تمہارے پاس لے آئیں۔

فَجُمِعَ السَّحَرَةُ لِمِيْقَاتِ يَوْمٍ مَّعْلُوْمٍۙ 26|38

چنانچہ تمام جادوگر ایک خاص مقررہ وقت پر جمع کر لئے گئے۔

وَّ قِيْلَ لِلنَّاسِ هَلْ اَنْتُمْ مُّجْتَمِعُوْنَۙ 26|39

اور عام لوگوں سے کہا گیا۔ کیا تم لوگ بھی (مقابلہ دیکھنے کیلئے) جمع ہوگے؟

لَعَلَّنَا نَتَّبِعُ السَّحَرَةَ اِنْ كَانُوْا هُمُ الْغٰلِبِيْنَ 26|40

تاکہ اگر جادوگر غالب آجائیں تو ہم سب ان کی پیروی کریں۔