قَدْ اَفْلَحَ (18)

سورۃ المؤمنون (23)

(91-100)

مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوْنَ 23|91

اللہ نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا اور نہ ہی اس کے ساتھ کوئی الہ ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر خدا اپنی مخلوق کو لے کر الگ ہو جاتا اور پھر ایک خدا دوسرے خدا پر چڑھ دوڑتا۔ پاک ہے خدا اس سے جو لوگ بیان کرتے ہیں۔

عٰلِمِ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَ 23|92

وہ غیب و شہادت یعنی پوشیدہ اور ظاہر سب کا جاننے والا ہے۔ اور وہ اس شرک سے بلند و بالا ہے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں۔

قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِيَنِّيْ مَا يُوْعَدُوْنَۙ 23|93

اے رسول(ص)) آپ کہئے کہ اے میرے پروردگار اگر تو مجھے وہ عذاب دکھا دے جس کی ان لوگوں کو دھمکی دی جا رہی ہے۔

رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِيْ فِي الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ 23|94

تو اے میرے پروردگار! مجھے ظالم لوگوں میں شامل نہ کرنا۔

وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِيَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ 23|95

اور ہم اس عذاب کے آپ کو دکھانے پر قادر ہیں جس کی ان کو دھمکی دی جا رہی ہے۔

اِدْفَعْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ السَّيِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَصِفُوْنَ 23|96

اے رسول(ص)) آپ برائی کو احسن طریقہ سے دفع کریں۔ ہم خوب جانتے ہیں جو وہ (آپ کی نسبت) بیان کرتے ہیں۔

وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّيٰطِيْنِۙ 23|97

اور آپ کہئے! اے میرے پروردگار! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تجھ سے پناہ مانگتا ہوں۔

وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ يَّحْضُرُوْنِ 23|98

اور اے میرے پروردگار! میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ وہ (شیطان) میرے پاس آئیں۔

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِ 23|99

کافروں کی یہی حالت رہتی ہے) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے پاس موت آکھڑی ہوتی ہے تو (تب) کہتا ہے کہ اے میرے پروردگار! مجھے (ایک بار) اسی دنیا میں واپس بھیج دے جسے میں چھوڑ آیا ہوں۔

لَعَلِّيْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِيْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآىِٕلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآىِٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ 23|100

تاکہ میں نیک عمل کر سکوں (ارشاد ہوگا) ہرگز نہیں! یہ محض ایک (فضول) بات ہے جو وہ کہہ رہا ہے اور ان کے (مرنے کے) بعد برزخ کا زمانہ ہے ان کے (دوبارہ) اٹھائے جانے تک۔