قَدْ اَفْلَحَ (18)

سورۃ المؤمنون (23)

(111-118)

اِنِّيْ جَزَيْتُهُمُ الْيَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآىِٕزُوْن 23|111

دیکھو) آج میں نے انہیں ان کے صبر کی جزا دی ہے۔ وہی کامران ہیں۔

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِيْنَ 23|112

ارشاد ہوگا تم کتنے برس تک زمین میں رہے ہو؟

قَالُوْا لَبِثْنَا يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ فَسْـَٔلِ الْعَآدِّيْنَ 23|113

وہ کہیں گے: ایک دن یا ایک دن کا بھی کچھ عرصہ۔ سو تو گننے والوں سے پوچھ لے۔

قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ 23|114

ارشاد ہوگا: تم نہیں رہے۔ مگر تھوڑا عرصہ کاش تم نے یہ بات سمجھی ہوتی۔

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَيْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ 23|115

کیا تمہارا یہ خیال تھا کہ ہم نے تمہیں بلا مقصد پیدا کیا ہے اور تم نے کبھی ہماری طرف پلٹ کر نہیں آنا ہے؟

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيْمِ 23|116

اللہ جو حقیقی بادشاہ ہے (ایسی بات سے) بلند و برتر ہے اس کے سوا کوئی الہ نہیں ہے۔ وہ عزت و عظمت والے عرش کا مالک ہے۔

وَ مَنْ يَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ 23|117

اور جو کوئی اللہ کے سوا کسی دوسرے (خود ساختہ) الہ (خدا) کو پکارتا ہے تو اس کے پاس اس کے لئے کوئی دلیل نہیں ہے تو اس کا حساب و کتاب پروردگار کے پاس ہے۔ اور جو کافر ہیں وہ کبھی فلاح نہیں پائیں گے۔

وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَيْرُ الرّٰحِمِيْنَ 23|118

اور (اے رسول(ص)) آپ کہئے! اے میرے پروردگار! تو بخش دے اور رحم فرما۔ اور تو بہترین رحم کرنے والا ہے۔