اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ (17)

سورۃ الانبیاء (21)

(51-60)

وَ لَقَدْ اٰتَيْنَاۤ اِبْرٰهِيْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا بِهٖ عٰلِمِيْنَۚ 21|51

اور یقیناً ہم نے اس (عہد موسوی) سے پہلے ابراہیم (ع) کو (ان کے مقام کے مطابق) سوجھ بوجھ عطا فرمائی تھی اور ہم ان کو خوب جانتے تھے۔

اِذْ قَالَ لِاَبِيْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا هٰذِهِ التَّمَاثِيْلُ الَّتِيْۤ اَنْتُمْ لَهَا عٰكِفُوْنَ 21|52

جب آپ نے (منہ بولے) باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ مورتیں کیسی ہیں جن (کی عبادت) پر تم جمے بیٹھے ہو۔

قَالُوْا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا لَهَا عٰبِدِيْنَ 21|53

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے ہوئے پایا ہے۔

قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ 21|54

آپ نے کہا تم بھی اور تمہارے باپ دادا بھی کھلی ہوئی گمراہی میں تھے۔

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِيْنَ 21|55

انہوں نے کہا کیا تم ہمارے پاس کوئی حق بات (سچا پیغام) لے کر آئے ہو یا صرف دل لگی کر رہے ہو؟

قَالَ بَلْ رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الَّذِيْ فَطَرَهُنّۖ وَ اَنَا عَلٰى ذٰلِكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِيْنَ 21|56

آپ نے کہا (دل لگی نہیں) بلکہ تمہارا پروردگار وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا پروردگار ہے جس نے انہیں پیدا کیا ہے اور میں اس بات کے گواہوں میں سے ایک گواہ ہوں۔

وَ تَاللّٰهِ لَاَكِيْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِيْنَ 21|57

اور بخدا میں تمہارے بتوں کے ساتھ (کوئی نہ کوئی) چال ضرور چلوں گا جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔

فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا اِلَّا كَبِيْرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ اِلَيْهِ يَرْجِعُوْنَ 21|58

چنانچہ آپ نے ان کے ایک بڑے بت کے سوا باقی سب کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں۔

قَالُوْا مَنْ فَعَلَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِيْنَ 21|59

انہوں نے کہا ہمارے خداؤں کے ساتھ کس نے یہ سلوک کیا ہے؟ بےشک وہ ظالموں میں سے ہے۔

قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًى يَّذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِيْمُؕ 21|60

بعض) لوگ کہنے لگے کہ ہم نے ایک نوجوان کو سنا ہے جو ان کا ذکر (برائی سے) کیا کرتا ہے جسے ابراہیم کہا جاتا ہے۔