وَ اِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰۤى اَرْبَعِيْنَ لَيْلَةً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ (2|51)
اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے موسیٰ سے (توراۃ دینے کے لئے) چالیس راتوں کا وعدہ کیا تھا پھر تم نے ان کے بعد گو سالہ (بچھڑے) کو (معبود) بنا لیا۔ جبکہ تم ظالم تھے۔
ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ (2|52)
پھر ہم نے اس (ظلم) کے بعد بھی معاف کر دیا۔ تاکہ تم شکر گزار بنو۔
وَ اِذْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ الْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ (2|53)
اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے موسیٰ کو کتاب فرقان عطا کی تاکہ تم ہدایت حاصل کرو۔
وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ يٰقَوْمِ اِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْۤا اِلٰى بَارِىِٕكُمْ فَاقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ عِنْدَ بَارِىِٕكُمْ١ؕ فَتَابَ عَلَيْكُمْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ (2|54)
اور (وہ وقت یاد کرو) جب (موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا) اے میری قوم! یقینا تم نے گو سالہ کو (معبود) بنا کر اپنی جانوں پر بڑا ظلم کیا ہے۔ لہٰذا تم اپنے خالق کی بارگاہ میں (اس طرح) توبہ کرو۔ کہ اپنی جانوں کو قتل کرو۔ یہی (طریقہ کار) تمہارے خالق کے نزدیک تمہارے لئے بہتر ہے۔ اس صورت میں اس نے تمہاری توبہ قبول کی۔ بے شک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
وَ اِذْ قُلْتُمْ يٰمُوْسٰى لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ حَتّٰى نَرَى اللّٰهَ جَهْرَةً فَاَخَذَتْكُمُ الصّٰعِقَةُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ (2|55)
اور (وہ وقت یاد کرو) جب تم نے کہا اے موسیٰ! اس وقت تک ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے جب تک ظاہر بظاہر (اعلانیہ) خدا کو دیکھ نہ لیں۔ سو (اس پر) تمہارے دیکھتے بجلی نے تمہیں اپنی گرفت میں لے لیا۔
ثُمَّ بَعَثْنٰكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ(2|56)
پھر ہم نے تمہاری موت کے بعد تمہیں زندہ کیا تاکہ (اس احسان کے بعد) تم شکرگزار بن جاؤ۔
وَ ظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى ١ؕ كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُوْنَ (2|57)
اور ہم نے (صحراء میں) تمہارے اوپر ابر کا سایہ کیا اور تم پر من و سلویٰ نازل کیا (اور کہا) کہ ان پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تم کو عطا کی ہیں۔ اور ان لوگوں نے (ناشکری کرکے) ہم پر کوئی زیادتی نہیں کی بلکہ وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے رہے۔
وَ اِذْ قُلْنَا ادْخُلُوْا هٰذِهِ الْقَرْيَةَ فَكُلُوْا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّ قُوْلُوْا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطٰيٰكُمْ١ؕ وَ سَنَزِيْدُ الْمُحْسِنِيْنَ (2|58)
اور (یاد کرو وہ وقت) جب ہم نے کہا کہ اس بستی (بیت المقدس یا اریحا) میں داخل ہو جاؤ اور اس میں سے جہاں سے چاہو (اور جو چاہو) مزے سے بافراغت کھاؤ۔ (پیو) اور دروازے سے سجدہ کرتے ہوے حطہ (بخشش) کہتے ہوئے داخل ہو جاؤ۔ ہم تمہاری خطائیں معاف کر دیں گے اور ہم نیکی کرنے والوں کو کچھ زیادہ ہی (ثواب) عطا کریں گے۔
فَبَدَّلَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِيْ قِيْلَ لَهُمْ فَاَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ(2|59)
مگر ان ظالموں نے وہ بات (حطہ) جو ان سے کہی گئی تھی اسے ایک اور بات سے بدل دیا (اور حطۃ کی بجائے حنطۃ کہا) لہٰذا ہم نے ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر آسمان سے بڑا عذاب نازل کیا
وَ اِذِ اسْتَسْقٰى مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ؕ فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِي الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ (2|60)
اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لئے (خدا سے) پانی مانگا۔ تو ہم نے کہا اپنا عصا چٹان پر مارو جس کے نتیجہ میں بارہ چشمے پھوٹ نکلے اس طرح ہر گروہ نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کر لیا۔ (ہم نے کہا) خدا کے دیئے ہوئے رزق سے کھاؤ پیو اور زمین میں فساد پھیلاتے نہ پھرو۔