تِلْكَ الرُّسُلُ(3)

سورۃ البقرہ (2)

(271-280)

اِنْ تُبْدُوا الصَّدَقٰتِ فَنِعِمَّا هِيَ١ۚ وَ اِنْ تُخْفُوْهَا وَ تُؤْتُوْهَا الْفُقَرَآءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ١ؕ وَ يُكَفِّرُ عَنْكُمْ مِّنْ سَيِّاٰتِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ (2|271)

اگر تم اپنی خیرات علانیہ طور پر دو تو بھی اچھا ہے اور اگر اسے پوشیدہ رکھو اور حاجتمندوں کو دو تو وہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے اور تمہارے کچھ گناہوں اور برائیوں کا کفارہ ہو جائے گا (انہیں مٹا دے گا)۔ تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔

لَيْسَ عَلَيْكَ هُدٰىهُمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَآءُ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ فَلِاَنْفُسِكُمْ١ وَ مَا تُنْفِقُوْنَ اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ يُّوَفَّ اِلَيْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ (2|272)

اے رسول!) ان لوگوں کو منزل مقصود تک پہنچانے کی آپ پر ذمہ داری نہیں ہے (تمہارا فرض صرف راستہ دکھانا ہے)۔ اللہ جسے چاہتا ہے منزل مقصود تک پہنچاتا ہے اور تم جو کچھ مال خرچ کرتے ہو۔ تو وہ تمہارے اپنے (فائدہ) کے لئے ہے اور تم جو بھی خرچ کرتے ہو وہ اللہ کی خوشنودی کے لئے کرتے ہو۔ اور تم جو مال و دولت خیرات میں دوگے۔ وہ پورا پورا تمہیں ادا کر دیا جائے گا اور تم پر ہرگز ظلم نہیں کیا جائے گا۔

لِلْفُقَرَآءِ الَّذِيْنَ اُحْصِرُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ ضَرْبًا فِي الْاَرْضِ١ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ اَغْنِيَآءَ مِنَ التَّعَفُّفِ١ۚ تَعْرِفُهُمْ بِسِيْمٰىهُمْ١ۚ لَا يَسْـَٔلُوْنَ النَّاسَ اِلْحَافًا١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ خَيْرٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِيْمٌ (2|273)

یہ خیرات) خاص طور پر ان حاجتمندوں کے لئے ہے جو اللہ کی راہ میں اس طرح گھر گئے ہیں کہ روئے زمین پر سفر نہیں کر سکتے، ناواقف انہیں خود داری برتنے اور رکھ رکھاؤ کی وجہ سے مالدار سمجھتا ہے۔ مگر تم انہیں ان کے چہروں سے پہچان سکتے ہو۔ وہ لوگوں سے لپٹ کر اور ان کے پیچھے پڑ کر سوال نہیں کرتے۔ اور تم جو کچھ مال و دولت (راہِ خدا میں) خرچ کروگے بے شک اللہ اسے جانتا ہے۔

اَلَّذِيْنَ يُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّيْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِيَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَؔ (2|274)

جو لوگ اپنے مال رات اور دن میں خفیہ و علانیہ (راہِ خدا میں) خرچ کرتے ہیں ان کا اجر و ثواب ان کے پروردگار کے پاس ہے۔ ان کے لئے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

اَلَّذِيْنَ يَاْكُلُوْنَ الرِّبٰوا لَا يَقُوْمُوْنَ اِلَّا كَمَا يَقُوْمُ الَّذِيْ يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطٰنُ مِنَ الْمَسِّ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبٰوا١ۘ وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَيْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا١ؕ فَمَنْ جَآءَهٗ مَوْعِظَةٌ مِّنْ رَّبِّهٖ فَانْتَهٰى فَلَهٗ مَا سَلَفَ١ؕ وَ اَمْرُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ عَادَ فَاُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِ١ۚ هُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ (2|275)

اور جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ (قیامت کے دن) نہیں کھڑے ہوں گے مگر اس شخص کی طرح جسے شیطان نے اپنے آسیب سے مخبوط الحواس بنا دیا ہو۔ (جس سے وہ پہچانے جائیں گے کہ وہ سود خور ہیں)۔ یہ اس لئے ہے کہ وہ قائل ہیں کہ تجارت بھی تو سود کی مانند ہے۔ حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال اور سود کو حرام کیا ہے۔ پس جس شخص کے پاس اس کے پروردگار کی طرف سے نصیحت (فہمائش) آئی اور وہ (سودخوری سے) باز آگیا۔ تو جو پہلے ہو چکا وہ اس کا ہے اس کا معاملہ خدا کے حوالے ہے اور جو (ممانعت کے بعد) پھر ایسا کرے تو ایسے لوگ جہنمی ہیں جو ہمیشہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔

يَمْحَقُ اللّٰهُ الرِّبٰوا وَ يُرْبِي الصَّدَقٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ اَثِيْمٍ (2|276)

اللہ سود کو مٹاتا ہے اور خیر و خیرات کو بڑھاتا ہے اور جتنے ناشکرے اور گنہگار ہیں اللہ ان کو دوست نہیں رکھتا۔

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ۚ وَ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَ لَا هُمْ يَحْزَنُوْنَ (2|277)

بے شک جو لوگ ایمان لائے اور اچھے عمل کئے۔ اور نماز پڑھی اور زکوٰۃ ادا کی ان کا اجر و ثواب ان کے پروردگار کے پاس ہے۔ اور (قیامت کے دن) ان کے لئے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔

يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبٰۤوا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ (2|278)

اے ایمان والو! خدا (کی نافرمانی) سے ڈرو۔ اور جو کچھ سود (لوگوں کے ذمے) باقی رہ گیا ہے۔ اسے چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو۔

فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوْسُ اَمْوَالِكُمْ١ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ (2|279)

لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا تو پھر خدا اور اس کے رسول سے جنگ کرنے کے لئے تیار ہو جاؤ۔ اور اگر اب بھی تم توبہ کرلو۔ تو تمہارا اصل مال تمہارا ہوگا (جو تمہیں مل جائے گا)۔ نہ تم (زائد لے کر) کسی پر ظلم کروگے اور نہ (اصل مال خوردبرد کرکے) تم پر ظلم کیا جائے گا۔

وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيْسَرَةٍ١ؕ وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ (2|280)

اور اگر (مقروض) تنگ دست ہے تو اسے فراخ دستی تک مہلت دینا ہوگی۔ اور اگر (قرضہ معاف کرکے) خیرات کرو۔ تو یہ چیز تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔