سَيَقُولُ(2)

سورۃ البقرہ (2)

(161-170)

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ اُولٰٓىِٕكَ عَلَيْهِمْ لَعْنَةُ اللّٰهِ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِيْنَ (2|161)

بلاشبہ جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور پھر اسی کفر کی حالت میں مر گئے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔

خٰلِدِيْنَ فِيْهَا١ۚ لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَ لَا هُمْ يُنْظَرُوْنَ (2|162)

وہ اس (لعنت) میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے نہ تو ان کے عذاب میں کوئی کمی کی جائے گی۔ اور نہ ہی انہیں کوئی مہلت دی جائے گی۔

وَ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِيْمُ (2|163)

اور تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے۔ اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ وہ بڑا مہربان بہت رحم والا ہے۔

اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّيْلِ وَ النَّهَارِ وَ الْفُلْكِ الَّتِيْ تَجْرِيْ فِي الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ السَّمَآءِ مِنْ مَّآءٍ فَاَحْيَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ بَثَّ فِيْهَا مِنْ كُلِّ دَآبَّةٍ١۪ وَّ تَصْرِيْفِ الرِّيٰحِ وَ السَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ لَاٰيٰتٍ لِّقَوْمٍ يَّعْقِلُوْنَ (2|164)

بے شک آسمانوں اور زمینوں کی پیدائش میں اور رات دن کی آمد و رفت (الٹ پھیر) میں اور ان کشتیوں میں جو لوگوں کو نفع پہنچانے والی چیزیں لے کر سمندر میں چلتی ہیں اور (بارش کے) اس پانی میں جسے خدا نے آسمان (بلندی) سے برسایا اور پھر اس کے ذریعہ زمین کو اس کے بے جان (بے کار) ہو جانے کے بعد جاندار بنا دیا (سرسبز و شاداب بنا دیا) اور اس میں ہر قسم کے چلنے پھرنے والے (جانور) پھیلا دیئے۔ اور ہواؤں کی گردش (ہیر پھیر) میں اور ان بادلوں میں جو آسمان و زمین کے درمیان مسخر کرکے (تابع فرمان بنا کے) رکھے گئے ہیں۔ (ان سب باتوں میں) خدا کے وجود اور اس کی قدرت کی بڑی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لئے جو عقل و خرد سے کام لیتے ہیں۔

وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَّتَّخِذُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اَنْدَادًا يُّحِبُّوْنَهُمْ كَحُبِّ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰهِ١ؕ وَ لَوْ يَرَى الَّذِيْنَ ظَلَمُوْۤا اِذْ يَرَوْنَ الْعَذَابَ١ۙ اَنَّ الْقُوَّةَ لِلّٰهِ جَمِيْعًا١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ شَدِيْدُ الْعَذَابِ (2|165)

ان حقائق کے باوجود) کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو خدا کے سوا اوروں کو اس کا ہمسر قرار دیتے ہیں اور ان سے اس طرح محبت کرتے ہیں جس طرح خدا سے کرنی چاہیے۔ مگر جو صاحب ایمان ہیں وہ سب سے بڑھ کر خدا سے محبت کرتے ہیں اور کاش یہ ظالم (اس وقت) وہ حقیقت دیکھ لیتے (سمجھ لیتے) جو عذاب دیکھتے وقت سمجھیں گے کہ ساری قوت و طاقت بس اللہ کے لئے ہی ہے اور یہ کہ اللہ سخت عذاب کرنے والا ہے۔

اِذْ تَبَرَّاَ الَّذِيْنَ اتُّبِعُوْا مِنَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْا وَ رَاَوُا الْعَذَابَ وَ تَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْاَسْبَابُ (2|166)

اور (وہ مرحلہ کتنا کھٹن ہوگا) جب وہ (پیر) لوگ جن کی (دنیا میں) پیروی کی گئی اپنے پیرؤوں (مریدوں) سے برأت اور لاتعلقی ظاہر کریں گے اور خدا کا عذاب ان سب کی آنکھوں کے سامنے ہوگا اور سب وسائل اور تعلقات بالکل قطع ہو چکے ہوں گے۔

وَ قَالَ الَّذِيْنَ اتَّبَعُوْا لَوْ اَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّاَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوْا مِنَّا١ؕ كَذٰلِكَ يُرِيْهِمُ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ حَسَرٰتٍ عَلَيْهِمْ١ؕ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِيْنَ مِنَ النَّارِ (2|167)

اور پیروی کرنے والے (مرید) کہتے ہوں گے کہ کاش! ہمیں ایک بار (دنیا میں) واپسی کا موقع مل جاتا تو ہم بھی بالکل اسی طرح ان سے بیزاری اور بے تعلقی ظاہر کرتے جس طرح انہوں نے آج ہم سے بیزاری اور لاتعلقی ظاہر کی ہے اسی طرح خدا ان کے (برے) کاموں کو حسرت و یاس کی شکل میں دکھائے گا اور وہ کبھی دوزخ سے باہر نہیں نکل سکیں گے۔

يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِي الْاَرْضِ حَلٰلًا طَيِّبًا١ۖ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّيْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ (2|168)

اے انسانو! زمین میں جو حلال اور پاکیزہ چیزیں ہیں وہ کھاؤ۔ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ بلاشبہ وہ تمہارا کھلم کھلا دشمن ہے۔

اِنَّمَا يَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ الْفَحْشَآءِ وَ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ (2|169)

وہ تو تمہیں برائی و بے حیائی اور بدکاری کا حکم دیتا ہے اور (چاہتا ہے کہ) تم خدا کے خلاف ایسی باتیں منسوب کرو جن کا تمہیں علم نہیں ہے۔

وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمُ اتَّبِعُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِعُ مَاۤ اَلْفَيْنَا عَلَيْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا يَعْقِلُوْنَ شَيْـًٔا وَّ لَا يَهْتَدُوْنَ (2|170)

اور جب ان (کفار و مشرکین) سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ خدا نے اتارا ہے اس کی پیروی کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ، دادا کو پایا ہے اگرچہ ان کے باپ، دادا بے عقل ہوں اور راہ راست پر بھی نہ ہوں (تو پھر بھی انہی کی پیروی کریں گے)۔