وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰى تِسْعَ اٰيٰتٍۭ بَيِّنٰتٍ فَسْـَٔلْ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ اِذْ جَآءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّيْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰى مَسْحُوْرًا 17|101
اور ہم نے موسیٰ کو نو کھلی نشانیاں عطا فرمائیں۔ آپ بنی اسرائیل سے پوچھ لیں جب کہ وہ (موسیٰ) ان کے پاس آئے تھے! تو فرعون نے اس سے کہا۔ اے موسیٰ! میں تو تمہیں سحر زدہ (یا ساحر) خیال کرتا ہوں۔
قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَاۤ اَنْزَلَ هٰۤؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ بَصَآىِٕرَ١ۚ وَ اِنِّيْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا 17|102
موسیٰ نے کہا (اے فرعون) تو (دل میں تو) یقیناً جانتا ہے کہ یہ نشانیاں آسمانوں اور زمین کے پروردگار نے بصیرت کا سامان بنا کر نازل کی ہیں۔ اور اے فرعون! میں سمجھتا ہوں کہ تو ایک ہلاکت زدہ آدمی ہے۔
فَاَرَادَ اَنْ يَّسْتَفِزَّهُمْ مِّنَ الْاَرْضِ فَاَغْرَقْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ جَمِيْعًا 17|103
اس (فرعون) نے ارادہ کیا کہ وہ (موسیٰ اور بنی اسرائیل) کو اس سر زمین سے نکال باہر کرے لیکن ہم نے اسے اور اس کے سب ساتھیوں کو غرق کر دیا۔
وَّ قُلْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ لِبَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيْفًاؕ 17|104
اور اس (واقعہ) کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا کہ تم اس سر زمین میں سکونت اختیار کرو۔ پس جب آخرت کا وعدہ آجائے گا تو ہم تم (سب) کو (اپنے حضور) سمیٹ لائیں گے۔
وَ بِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَ بِالْحَقِّ نَزَلَ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِيْرًا 17|105
اور ہم نے اس (قرآن) کو حق کے ساتھ نازل کیا ہے اور وہ حق کے ساتھ نازل ہوا ہے۔ اور ہم نے آپ کو بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔
وَ قُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَى النَّاسِ عَلٰى مُكْثٍ وَّ نَزَّلْنٰهُ تَنْزِيْلًا 17|106
اور ہم نے قرآن کو متفرق طور پر (جدا جدا کرکے) نازل کیا ہے تاکہ آپ اسے لوگوں کے سامنے ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں اور ہم نے اسے (موقع بموقع) بتدریج نازل کیا ہے۔
قُلْ اٰمِنُوْا بِهٖۤ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا١ؕ اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖۤ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ يَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا 17|107
کہہ دیجیے! کہ تم (لوگ) اس پر ایمان لاؤ یا نہ لاؤ۔ لیکن جن کو اس سے پہلے علم دیا گیا ہے جب اسے ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو وہ منہ کے بل سجدہ میں گر پڑتے ہیں۔
وَّ يَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا 17|108
اور کہتے ہیں کہ پاک ہے ہمارا پروردگار! بے شک ہمارے پروردگار کا وعدہ تو پورا ہو کر ہی رہتا ہے۔
وَ يَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ يَبْكُوْنَ وَ يَزِيْدُهُمْ خُشُوْعًا ۩ 17|109
اور وہ روتے ہوئے منہ کے بل گر پڑتے ہیں۔ اور یہ (قرآن) ان کے خشوع و خضوع میں اضافہ کر دیتا ہے۔
قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ١ؕ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى ١ۚ وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا وَ ابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا 17|110
کہہ دیجیے! کہ اسے اللہ کہہ کر پکارو یا رحمٰن کہہ کر پکارو جس نام سے بھی اسے پکارو۔ اس کے سارے نام اچھے ہیں اور نہ ہی اپنی نماز زیادہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ ہی بالکل آہستہ سے بلکہ ان دونوں کے درمیان کا راستہ اختیار کرو۔
وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ يَكُنْ لَّهٗ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ وَ لَمْ يَكُنْ لَّهٗ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ تَكْبِيْرًا 17|111
اور کہہ دیجئے! سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا ہے اور نہ ہی کسی کو شریک بنایا ہے اور نہ ہی درماندگی اور عاجزی کی وجہ سے اس کا کوئی مددگار ہے اور اس کی کبریائی اور بڑائی کا بیان کرو جس طرح بڑائی بیان کرنی چاہیئے۔