وَ نَبِّئْهُمْ عَنْ ضَيْفِ اِبْرٰهِيْمَ 15|51
اور انہیں ابراہیم(ع) کے مہمانوں کا واقعہ بھی سنا دو۔
اِذْ دَخَلُوْا عَلَيْهِ فَقَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ اِنَّا مِنْكُمْ وَ جِلُوْنَ 15|52
جبکہ وہ ان کے پاس آئے اور سلام کیا اور انہوں نے (جوابِ سلام کے بعد) کہا ہم کو تم سے ڈر لگ رہا ہے۔
قَالُوْا لَا تَوْجَلْ اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِيْمٍ 15|53
مہمانوں) نے کہا کہ ڈرئیے نہیں ہم آپ کو ایک صاحبِ علم بچہ کی (ولادت کی) بشارت دیتے ہیں۔
قَالَ اَبَشَّرْتُمُوْنِيْ عَلٰۤى اَنْ مَّسَّنِيَ الْكِبَرُ فَبِمَ تُبَشِّرُوْنَ 15|54
ابراہیم(ع) نے کہا تم مجھے اس حال میں بشارت دیتے ہو کہ مجھ پر بڑھاپا آچکا ہے یہ کس چیز کی بشارت ہے جو تم مجھے دیتے ہو؟
قَالُوْا بَشَّرْنٰكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْقٰنِطِيْنَ 15|55
انہوں نے کہا ہم آپ کو بالکل سچی بشارت دے رہے ہیں تو آپ ناامید ہونے والوں میں سے نہ ہوں۔
قَالَ وَ مَنْ يَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ 15|56
ابراہیم(ع) نے کہا اپنے پروردگار کی رحمت سے تو گمراہوں کے سوا کون مایوس ہوتا ہے؟
قَالَ فَمَا خَطْبُكُمْ اَيُّهَا الْمُرْسَلُوْنَ 15|57
پھر) کہا اے اللہ کے فرستادو آخر تمہیں کیا مہم درپیش ہے؟
قَالُوْۤا اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمٍ مُّجْرِمِيْنَۙ 15|58
انہوں نے کہا کہ ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔
اِلَّاۤ اٰلَ لُوْطٍ١ؕ اِنَّا لَمُنَجُّوْهُمْ اَجْمَعِيْنَ 15|59
سوا لوط(ع) کے گھر والوں کے کہ ہم ان سب کو بچا لیں گے۔
اِلَّا امْرَاَتَهٗ قَدَّرْنَاۤ١ۙ اِنَّهَا لَمِنَ الْغٰبِرِيْنَ 15|60
بجز اس کی بیوی کے اس کی نسبت ہم نے یہ طے کیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہوگی۔