يَعْتَذِرُوْنَ (11)

سورۃ یونس (10)

(991-100)

آٰلْـٰٔنَ وَ قَدْ عَصَيْتَ قَبْلُ وَ كُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِيْنَ 10|91

اس سے کہا گیا) اب؟ (ایمان لاتا ہے؟) حالانکہ اس سے پہلے تو مسلسل نافرمانی کرتا رہا ہے اور تو فسادیوں میں سے ایک (بڑا) مفسد تھا۔

فَالْيَوْمَ نُنَجِّيْكَ بِبَدَنِكَ لِتَكُوْنَ لِمَنْ خَلْفَكَ اٰيَةً١ؕ وَ اِنَّ كَثِيْرًا مِّنَ النَّاسِ عَنْ اٰيٰتِنَا لَغٰفِلُوْنَ 10|92

پس آج ہم صرف تیرے بدن (لاش) کو بچائیں گے تاکہ تو اپنے بعد آنے والوں کے لئے (قدرت و عبرت کی) ایک نشانی بن جائے (اگرچہ) لوگوں کی اکثریت ہماری نشانیوں سے غافل ہی رہتی ہے۔

وَ لَقَدْ بَوَّاْنَا بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ مُبَوَّاَ صِدْقٍ وَّ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ١ۚ فَمَا اخْتَلَفُوْا حَتّٰى جَآءَهُمُ الْعِلْمُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ يَقْضِيْ بَيْنَهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ فِيْمَا كَانُوْا فِيْهِ يَخْتَلِفُوْنَ 10|93

اور ہم نے (حسب الوعدہ) بنی اسرائیل کو (رہنے کے لئے) بہت اچھا ٹھکانا دیا اور پاکیزہ چیزوں سے ان کی روزی کا انتظام کیا پس جب تک ان کے پاس توراۃ وغیرہ کی شکل میں علم نہیں آگیا تب تک انہوں نے باہم اختلاف نہیں کیا۔ (پھر جان بوجھ کر اختلاف کیا)۔ یقینا آپ کا پروردگار قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ کرے گا ان باتوں میں جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔

فَاِنْ كُنْتَ فِيْ شَكٍّ مِّمَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ فَسْـَٔلِ الَّذِيْنَ يَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ١ۚ لَقَدْ جَآءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ 10|94

اگر (بالفرض) آپ کو اس (قرآن میں) کچھ شک ہے جو ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے تو پھر ان لوگوں (اہل کتاب) سے پوچھ لو جو آپ سے پہلے کتابیں (توراۃ و انجیل وغیرہ) پڑھتے رہتے ہیں۔ بے شک آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ کے پاس حق آیا ہے لہٰذا ہرگز شک کرنے والوں میں سے نہ ہونا۔

وَ لَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِ اللّٰهِ فَتَكُوْنَ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ 10|95

اور نہ ہی ان لوگوں میں سے ہونا جنہوں نے آیاتِ الٰہیہ کو جھٹلایا ورنہ نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاؤگے۔

اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ 10|96

بے شک وہ لوگ جن پر آپ کے پروردگار کی بات ثابت ہو چکی ہے تب تک وہ کبھی ایمان نہیں لائیں گے۔

وَ لَوْ جَآءَتْهُمْ كُلُّ اٰيَةٍ حَتّٰى يَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ 10|97

اگرچہ دنیا جہاں کی تمام نشانیاں (معجزات) ان کے سامنے آجائیں مگر وہ جب تک دردناک عذاب اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔

فَلَوْ لَا كَانَتْ قَرْيَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَاۤ اِيْمَانُهَاۤ اِلَّا قَوْمَ يُوْنُسَ١ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوْا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ مَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِيْنٍ 10|98

قومِ یونس کے سوا کیوں کوئی ایسی بستی نہیں ہوئی جو (عذاب دیکھ کر) ایمان لائی ہو اور اس کے ایمان نے اسے فائدہ بھی پہنچایا ہو؟ جب وہ (قومِ یونس والے) ایمان لائے تو ہم نے اس دنیاوی زندگی میں ان سے رسوائی والا عذاب ٹال دیا اور ان کو ایک مدت تک زندگی کے سرو سامان سے فائدہ اٹھانے کی مہلت دے دی۔

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِي الْاَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيْعًا١ؕ اَفَاَنْتَ تُكْرِهُ النَّاسَ حَتّٰى يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ 10|99

اگر آپ کا پروردگار (جبراً) چاہتا تو روئے زمین کے سب لوگ ایمان لے آتے۔ تو کیا آپ لوگوں کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ مؤمن ہو جائیں۔

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تُؤْمِنَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ يَجْعَلُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِيْنَ لَا يَعْقِلُوْنَ 10|100

کوئی بھی متنفس ایسا نہیں ہے جو اللہ کے اذن کے بغیر ایمان لے آئے اور اللہ ان لوگوں پر (کفر و شرک) کی نجاست ڈال دیتا ہے جو عقل سے کام نہیں لیتے۔